کئی دہائیوں سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کا تنازعہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر رہا ہے۔ جب دنیا کو چاغی میں ایٹمی تجربات کیے جانے کا علم ہوا تو بہت سے لوگوں نے پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی کوشش پر اعتراض اٹھائے ۔

چاغی میں پہلے تجربات اور ہندوستان میں تجربات کے بعد، اقوام متحدہ نے ایک قرارداد جس پر متفقہ طور پر دستخط کیے گئے تھے, ان تجربات کی مذمت کرتے ہوئے منظور کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک مزید کسی بھی قسم کے تجربات سے باز رہیں گے ۔ ریاست ہائے متحدہ امریکہ، جاپان، آسٹریلیا، سویڈن، کینیڈا اور یہاں تک کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بھی دونوں ممالک پر سخت اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں تھیں۔ پھر بھی اس سب کے باوجود پاکستان دنیا کی ساتویں جوہری طاقت بننے میں کامیاب رہا۔

جوہری تجربات پر اعتراض کرنے والے آج بھی تنقید کرتے ہیں اور پھر ایسے بھی افراد موجود ہیں جنہوں نے حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو کمزور کرنے اور الزام تراشی کے لئے ان تجربات کو استعمال کیا ہے۔ بلوچستان کے مختلف گروپس نے سوشل میڈیا پر یہ دعوی کیا ہے کہ راس کوہ پہاڑیوں میں ایٹمی تجربات سے دیرپا تابکار شعاعوں کا اخراج مقامی لوگوں کے لئے نقصان دہ تھا ، جس کا خمیازہ آج تک بھگت رہے ہیں۔

تبدیل شدہ جنگلی حیات کے ساتھ ساتھ جلد کی خوفناک بیماریوں میں مبتلا کم عمر لڑکیوں کی تصاویر بھی اپلوڈ کی جاتی ہیں ۔ اور دعویٰ کیا جاتا ہے کہ تابکاری کے پھیلاؤ کی وجہ سے علاقے کا پانی آلودہ ہوچکا ہے اور بہت سے مقامی افراد بھی کینسر کا شکار ہوچکے ہیں۔ ایسے بے ربط دعوؤں میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ تابکاری کے پھیلاؤ سے پودے تک متاثر ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کی سائنسی کمیٹی برائے جوہری تابکاری کے اثرات (یو این ایس سی ای اے آر) کی 2000 کی رپورٹ میں جنرل اسمبلی کو بتایا گیا کہ دنیا میں تابکاری کے پھیلاؤ میں انسانی شراکت کی اکثریت جوہری تجربات کے ذریعے ہوئی ہے۔ تاہم رپورٹ میں یہ فرق بھی بتایا گیا ہے کہ یہ نقصان 1945 سے 1980 کے درمیان فضا میں اور زمین سے اوپر کے جوہری تجربات سے ہوا ہے، جہاں تابکاری کے اثرات کو روکنے کا کوئی راستہ موجود نہیں تھا۔

Figure 1: Different types of nuclear tests:
(1) Atmospheric test; (2) Underground test; (3) Upper atmospheric test; (4) Underwater test

1963 میں جزوی تجربات کی ممانعت کے معاہدے (پی ٹی بی ٹی) نے فضا میں، بیرونی خلا میں اور پانی کے نیچے جوہری تجربات پر پابندی عائد کر دی تھی لیکن یہ پابندی زیر زمین تجربات پر کبھی لاگو نہیں رہی۔


Figure 2: Types of craters formed after an underground nuclear explosion

زیر زمین تجربات سے تابکاری کے پھیلاؤ کے مسئلے کو مکمل طور پر کم کیا جا تاہے , کیونکہ دھماکا بہت زیر زمین ہوتا ہے۔ زیر زمین تجربات کے نتیجے میں زمین پر جاری ہونے والے ریڈیونیوکلائڈز قلیل المدت ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین کی طرف جاری ہونے والی تابکار شعاعیں زیادہ عرصہ نہیں رہ پاتی ہیں اور نقصان دہ ہونے کے لئے اس کی سطح کے قریب نہیں ہوتی ہیں۔ صرف ایک ہی صورت میں پھیلاؤ ممکن ہے اگر دھماکے کے نتیجے میں پیدا ہونے والی گیسیں کسی شگاف سے خارج ہو جائیں تو ایسی صورت میں گیسوں کا ایک چھوٹا سا دھماکہ خیز اخراج دیکھا جاسکتا ہے۔ زیر زمین ہونے والے تجربات میں یہ انتہائی کم ہے اور تب ہی ممکن ہے جب دھماکا زیادہ گہرائی میں نا کیا گیا ہو۔ صرف اسی جگہ جہاں دھماکے کے نتیجے میں ایک قابل احاطہ گڑھا موجود ہے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں زمین کے اوپر کوئی تابکار شعاعیں موجود تھیں۔


Figure 3:  Venting during an underground test

آلودہ پانی کے دعوے بھی غلط ہیں کیونکہ پہاڑوں کے نیچے پانی کے ذخائر موجود نہیں ہیں جو آلودہ ہوسکتے تھے ۔ اس کے علاوہ پودوں کے متاثر ہونے کے دعوے بھی سچے نہیں کیوں کہ راس کوہ پہاڑیوں اور آس پاس کا علاقہ مکمل طور پر خشک ہے اور وہاں کسی بھی طرح کے پودے نہیں پائے جاتے۔

جہاں تک کینسر کے دعوؤں کی بات ہے تو تابکار شعاعوں کے پھیلاؤ سے بعض اقسام کے کینسر پیدا ہوتے ہیں، یہ تب ہی ہوتا ہے جب اس شخص کو تقریبا 20 سے 100 ریمز (تابکاری اکائی) کی تابکار شعاعوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیرزمین تجربات سے فضا میں اگر کوئی تابکاری موجود ہو بھی تو اس سے کہیں کم ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ جن لوگوں نے یہ دعوے کیے ہیں وہ ان کینسر سے متاثرہ باشندوں کے بارے میں کوئی بھی ثبوت سامنے لانے میں ناکام رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پر نشر کی گئی تصاویر میں دکھائی جانے والی جلد کی بیماریوں سے بھی یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ تابکاری کے پھیلاؤ کی وجہ سے نہیں ہوئی ہیں۔ یہ حقیقت میں سورج کی روشنی کے لئے زیادہ حساسیت کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماری ہے جس کو زیروڈرما پگمنٹوسم (ایکس پی) کہتے ہیں۔ تابکاری کا پھیلاؤ جلد کی بیماری کا سبب بنتا ہے جسے ریڈی ایشن ڈرمیٹائٹس کے نام سے جانا جاتا ہے۔ تاہم یہ بیماری عام طور پر طویل عرصے سے کینسر کا علاج کروانے کے دوران ہوتی ہے جب کسی شخص کو کیموتھراپی کے دوران مستقل طور پر بڑی مقدار میں شعاعوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ زیرزمین تجربے کے دوران خارج ہونے والی تابکار شعاعوں کی مقدار ناکافی ہوتی ہے اور نا ہی یہ کافی دیر تک رہتی ہیں جس سے ریڈی ایشن ڈرمیٹائٹس کی بیماری ہوسکتی ہے۔ ماہرین امراض جلد کے مطابق تصاویر میں دکھائے جانے والے بچوں کو بڑی مقدار میں سورج سے آنے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں کی وجہ سے ان بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔


Figure 4: An example of the photos uploaded to Twitter  with claims of radiation exposure

اقوام متحدہ کی سائنسی کمیٹی برائے جوہری تابکاری کے اثرات (یو این ایس سی ای اے آر) کی 2000 کی ایک رپورٹ کے مطابق جوہری تجربات کی تعداد کم ہونے اور زیر زمین کرنے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت میں ماحولیاتی نقصان ہونے کی کوئی اہم علامت نہیں ملتی۔ چاغی میں کئے گئے تجربات راس کوہ پہاڑیوں کے نیچے سینکڑوں میٹر کی گہرائی میں کئے گئے تھے۔ یہ علاقہ آبادی اور پودوں وغیرہ سے بہت دور مکمل طور پر خشک اور گنجان آباد ہے پانی کے ذخائر بھی دور دور تک یہاں موجود نہیں ہیں۔ کوئی شگاف یا دہانہ اس علاقے میں نہیں دیکھا گیا ہے۔ اسی لیے نقصانات سے متعلق کوئی بھی دعوے درست نہیں ہیں اور اسطرح کی غلط معلومات محض حکومت کو کمزور کرنے کیلئے پھیلائی جاتی ہیں۔

اردو ترجمہ: حسیب حیدر

The Chagai Radiation Myths

 

Share.

About Author

Avatar

is a Mass Communication graduate from NUST. She enjoys creative writing, reading and, photography in her free time.

Leave A Reply