دنیا بھر میں 21 ستمبر کو امن کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے. امن کے امکانات کو تلاش کرنے کیلئے اکٹھے ہونے پر غور کرنے کی جدوجہد میں ان رکاوٹوں پر بھی غور کرنا اتنا ہی ضروری ہے جو ہمیں امن کے حصول سے روکتی ہیں. پرانے وقتوں سے ہی دنیا نے ناانصافی، عدم مساوات، ظلم اور جنگ کو دیکھا ہے ۔فلسطینیوں، شامیوں اور وہ جو پناہ گزیں ہوئے اور دہشت گردی کا شکار ہونے والے افراد پر ظلم، مصلوب اور حراستی کیمپوں کی بکھری ہوئی باقیات کو ساتھ لے جاتے ہیں. ایسی ہی خاموشی نے عراق کی جنگ کو مشکل بنا دیا تھا جو آج کشمیر اور میانمار کو خاموش کروائے ہوئے ہے.اسطرح کی زندگی کی طاقت حسین ابن علی (علیہ السلام) میں جھلکتی ہے. جنہوں نے کھل کر ناانصافی کو مسترد کیا اور معاشرے میں اخلاقی پستی کو زبردستی دیکھنے سے انکار کر دیا. اپنے بچوں اور خواتین کے ہمراہ آپ نے کربلا میں قیام کیا اور اسلام کے وقار کیلئے سب کی قربانی دی. اسلام وہ مذہب ہے کہ جسکا لفظی معنی ہی “امن” ہے. اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو ذات پات، عقیدہ، نسل اور رنگ سے بالاتر ہو کر انسانیت کی تعلیم دیتا ہے

حسین (علیہ السلام) نے اخلاقی بنیادوں پر یزید کیساتھ جنگ لڑی. آپ نے اپنے کردار کی شرافت سے یزید کے ظالمانہ افکار کا سامنا کیا. جنگی سامان اور تعداد میں کم ہونے کے باوجود یزید کی طاقت کا سامنا کیا. آپ نے فرمایا “میں عزت کی موت کو ذلت سے بھرپور زندگی پر ترجیح دیتا ہوں”واشنگٹن ارونگ کے مطابق ” ایسا ممکن تھا کہ حسین یزید کی مرضی کے مطابق خود کو پیش کر کے اپنی جان بچا سکتے تھے لیکن ایک مصلح کی حیثیت سے انکی ذمہ داری نے انہیں یزید کی خلافت قبول کرنے کی اجازت نہیں دی. لہذا آپ نے اسلام کو ظالموں کے ہاتھوں سے نجات دلانے کیلئے ہر طرح کی تکلیف اور دکھ کو قبول کیا. تپتے سورج کے نیچے، کھلی ہوئی زمین پر اور عرب کی شدید گرمی میں لازوال حسین کھڑا رہا.

صدیوں بعد ابراہم لنکن نے بھی حسین پکارا، جب انہوں نے کہا “ایسے وقت میں حالت سکون میں ہونا جب کہ احتجاج کی ضرورت ہو تو یہ انسانوں میں بزدلی کا سبب بنتا ہے.” اسی طرح آگے چل کر امن کی بحالی کیلئے تقریباً دنیا کی ہر بغاوت نے حسین (علیہ السلام) کی شہادت سے توانائی حاصل کی ہے.ایک ایسی دنیا کیلئے جس میں ظلم و ستم اور خون خرابہ ہے حسین (علیہ السلام) کا پیغام امید کی روشنی کا کام کرتا ہے. انسانی ضمیر اور سماجی انصاف کیلئے اسکی جستجو کو بڑھاتا ہے. عملی طور پر آج یہ بات اہم ہے کہ دنیا کو حسین (علیہ السلام) کی قربانی اور انکے مشن کے بارے میں آگاہ کیا جائے کیونکہ آج جن تنازعات سے ہم برسرپیکار ہیں انکے زمینی حقائق تو مختلف ہو سکتے ہیں لیکن انکی بنیاد ایک ہی ہے.

فرعونیت اور آمریت کو للکارنا، اور ان تمام انحرافات سے جو انسانی وقار کو پامال کرتے ہیں، نظرانداز اور سیاسی طور پر پسماندہ افراد کیلئے کھڑا ہونا اور انصاف اور آزادی کی فراہمی پر لامتناہی خدائی زور لگانا، جمود کو ختم کرنے کے جوہر ہیں.

یہ سب امن کی ڈاکٹرائن کے اصولوں کے طور پر کام کرتے ہیں جو کہ سرزمین کربلا کے توسط سے ہم تک پہنچے ہیں. اسی لیے امن کوئی جامد تصور نہیں بلکہ عملی اقدامات کا نام ہے. امن کے حصول کی جدوجہد کو سال کے میں کسی ایک دن تک محدود نہیں کیا جا سکتا ہے یہ مسلسل اور چیلنجنگ ہے. یہ انسانیت کے مشترکہ جذبات کو آشکار کرتا ہے اور انسانیت کے لاتعداد عزم کا اعادہ ہے.

کیا حسین (علیہ السلام) صرف مسلمانوں کو پیارے ہیں؟
وہ انسانیت کے افق پر چمکتا ہوا ستارا ہیں
انکی (حسین علیہ السلام) بلند آواز پر انسانیت کو جاگنے دو
ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین (علیہ السلام)

ترجمہ : حسیبحیدر 

Share.

About Author

Hamna Malik

Hamna Malik is a writer based in Quetta. She holds her Masters degree in Media and Journalism and is currently working in the Editorial Department of Voice of Balochistan.

Leave A Reply